17 جولائی 2010 - 19:30

پاکستان اور ایران نے ایک ہزار میگاواٹ بجلی کی درآمد کے منصوبے پر پیشرفت مزید تیز کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ منصوبے پر پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے دونوں ملکوں کے ماہرین توانائی کا اجلاس ہر دو ماہ بعد منعقد ہو گا ۔

ان خیالات کا اظہار پیر کو اسلام آباد میں ایران کے نائب وزیر خارجہ سیّد امیر منصور برقعی نے ایران کے وفدکے ساتھ وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف سے ملاقات کے دوران کیا۔ وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان ایران سے ایک ہزار میگاواٹ بجلی کی درآمد کے منصوبے کی فوری تکمیل کا خواہاں ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان بجلی درآمد کے تین مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ایک منصوبے کے تحت 39 میگاواٹ، دوسرے کے تحت 100 جبکہ تیسرے منصوبے کے تحت ایک ہزار میگاواٹ بجلی درآمد ہو گی۔ 39 میگاواٹ کی درآمد 2003ء سے جاری ہے تاہم ان دنوں اس کی قیمت میں ردوبدل پر مذاکرات جاری ہیں۔ 100 میگاواٹ کیلئے 75 کلومیٹر ٹرانسمیشن لائن بچھائی جائے گی۔ گوادر کو بجلی کی فراہمی کا یہ منصوبہ جون 2012ء میں مکمل ہو گا۔ تیسرے منصوبہ کے تحت پاکستان ایران سے نیشنل گرڈ کیلئے ایک ہزار میگاواٹ بجلی درآمد کرے گا۔ اس منصوبہ کیلئے تقریباً 700 کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن بچھانے کیلئے پانچ سال کا عرصہ درکار ہو گا۔